بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایک باخبر ذریعے نے فارس نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے یمن کے محاذ کی تازہ ترین صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس وقت یمن کا پورا مغربی ساحل مقاومت (یعنی یمنی فوج اور انصار اللہ کے مجاہدین) کے کنٹرول میں ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آزاد کرائے گئے علاقوں کا رقبہ 4500 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر گیا
ذریعے نے یمن کے محاذ کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بتایا: گذشتہ رات سے اب تک، یمن کے مغربی ساحل پر انصاراللہ کی پے در پے فتوحات کے نتیجے میں، حیس، خوخہ، بخا کے اہم علاقے اور حنیش و زُقَر بھی کے جزیرے انصاراللہ کے ہاتھوں آزاد ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کل (جمعرات کی) شام ذباب، آبنائے باب المندب اور اسٹریٹجک جزیرہ میون بھی مقاومت کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔
اس باخبر ذریعے نے واضح کیا: اس وقت یمن کا پورا مغربی ساحل مقاومت کے کنٹرول میں ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آزاد کرائے جانے والے علاقوں کا رقبہ 4500 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔
ان کے مطابق، سعودی عرب سے وابستہ بڑی تعداد میں کرائے کے فوجی، خصوصاً طارق عفاش کی افواج، ہلاک، قیدی یا منتشر ہو گئے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب نے کل دوپہر سے شام تک تک انصاراللہ کے ٹھکانوں پر 80 سے زائد فضائی حملے کئے ہیں۔
اس باخبر ذریعے نے مزید کہا: بحری جہاز رانی کے راستے مکمل طور پر بند کر دیئے گئے ہیں اور تیل کی عالمی قیمت میں بھی شدید اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
ادھر، انصار اللہ اور یمنی افواج کے حملوں سے فرار اختیار کرنے والے کرائے کے سعودی فوجیوں نے عدن سمیت اماراتی گماشتوں کے زیر قبضہ شہروں میں داخلے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اماراتی گماشتوں نے سعودی گماشتوں سے کہا تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں ان شہروں میں داخل ہو سکتے ہیں کہ اپنے ہتھیار اور فوجی سازوسامان ان ان کی تحویل میں دے دیں؛ سعودی گماشتوں نے انکار کیا تو جنگ چھڑ گئی جو بظاہر ہنوز جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ